Skip to main content
تین جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے ابوسفیان کو دشمن خدا قرار دیا اور حضرت ابوبکر کی شکایت کرنے کے باوجود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تین صحابہ کرام رض کی تائید کرتے ہوئے حضرت ابوبکر کو تنبیہ فرمائی جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر کو ان تین صحابہ کرام رض سے معافی مانگنا پڑی
تو ثابت یہ ہوا کہ ابوسفیان اسلام میں داخل ہونے سے پہلے بھی دشمن خدا تھا اور بظاہر اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی دشمن خدا ہی رہا
اور آج بھی خدا کے دشمن اسے صحابیت کے لبادے میں چھپا کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت میں کھڑے نظر آتے ہیں اور اپنے آپ کو دفاع صحابہ کے علمبردار کہنے والے صرف ایک دشمن خدا کو بچانے کے لیے تین جلیل القدر صحابہ کرام کی گواہی کو بھی جھٹلا رہے ہیں جس کی تائید جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت بھی ہے